تیس ہزار بلوچ نوجوان ہنر مند بنا کر بیرون ملک روز گار کے لئے بھجوانے کے منصوبے کا آغاز
بلوچستان کے 30ہزار نوجوانوں کو ہنر مند بناکر بیرون ملک روزگار کے لئے بھجوانے کے منصوبے کاآغازکردیاگیا، وزیر اعلیٰ بلوچستان یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام برائے بیرون ملک روزگار کے تحت تعلیم فاؤنڈیشن پاکستان اورہذا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اسلام آبادHAZZA کے زیراہتمام ٹیکنیکل ٹریننگ حاصل کرنے والے5 تربیت یافتہ بلوچ نوجوانوں کی پہلی کھیپ سعودی عرب پہنچ گئی ہے جب کہ مزید21افراد اگلے تین روزمیں سعودی عرب اور قطر بھیجاجائے گا اور 96 لوگوں کے ویزوں کاپراسس جاری ہے جو کہ مئی میں بیرونِ مُلک روانہ ہو جائیں گے ،حکومتِ بلوچستان کے اس منصوبے کی افادیت کو دیکھتے ہوئے مرکز اور پنجاب کی حکومتوں نے بھی افرادی قوت بیرون ملک بھجوانے کے ایسے منصوبوں کا اعلان کر دیا ،تعلیم فاؤنڈیشن پاکستان کے سربراہ ریٹائرڈبیورکریٹ ڈاکٹر ظفر قادر نے جنگ کو بتایاکہ بلوچستان میں احساس محرومی ختم کرنے کے لئے سی ایم بلوچستان سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت بلوچستان کے 30ہزار نوجوانوں کوٹیکنیکل ٹریننگ دے کر بیرون ملک ملازمتوں کے لئے بھیجوایاجارہاہے، اس پروگرام کو بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (BTEVTA) لیڈ کر رہی ہے، یہ پروگرام بلوچستان کے 30 ہزار نوجوانوں کی زندگیوں کو بدلنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا جوایک اہم اقدام ہے اس سلسلے میں تعلیم فاؤنڈیشن اور ھٰذاانسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بین الاقوامی جاب مارکیٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے عالمی معیار کی پیشہ ورانہ اور تکنیکی تربیت فراہم کررہی ہیں ،بلوچستان کے 30ہزار ہنر مند کارکنوں کو بیرون ملک بھجوانے کے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لئے ابتدائی طور پر ہمیں بلوچستان سے 975 نوجوانوں کو ٹیکنیکل ٹریننگ دے کربیرون ملک روزگار کے لئے بھجوانے کا پابند بنایا گیا ہے جس کے لئے بیرون ملک ملازمت کے لیے پاکستان میں ایسے تربیت یافتہ افراد کی پہلی کھیپ تیار کرنے میں کامیاب رہی ہے اور مذکورہ تربیت یافتہ بلوچ نوجوانوں میں سے 5 کو سعودی عرب بھجوادیاگیاہے ، جب کہ ان شاء اللہ مئی میں مزید21 افراد سعودیہ اور قطر بھجوائے جائیں گے جنہوں نے تربیت مکمل کرلی ہے اب ان کی روانگی کے لئے اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن آف پاکستان سفری دستاویزات کی تیاری کررہی ہے مزید یہ کہ ہر ماہ 70سے 80ہنرمند افراد کو باہر بھجوایاجائے گا،یہ پروگرام بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگا،ڈٓکٹر ظفرالقادرکے مطابق تعلیم فاؤنڈیشن پاکستان کو1989 میں قائم کیا گیا جو بلوچستان کے قبائلی اضلاع میں تعلیمی ناخواندگی کو دور کرنے کے مشن پر عمل پیراہے، تعلیم فاؤنڈیشن پاکستان بلوچستان کے سات اضلاع میں آٹھ گرامر سکولوں کے نیٹ ورک کوچلارہی ہے ،مقامی سرکاری ملازمین کے تعاون سے، یہ سکول پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت کام کررہے ہیں ، ان سکولوں میں مخلوط تعلیم کی شکل میں خواتین فیکلٹی کو ملازمتیں اور لڑکیوں کو تعلیم کے لیے سازگار ماحول فراہم کیاگیاہے ،تعلیم فاؤنڈیشن پاکستان بلوچستان کے علاوہ پنجاب میں ایجوکیشن ٹیکنالوجی سلوشن کے ذریعے خانیوال میں 40 سرکاری سکولوں اور ضلع مظفر گڑھ کے 10 سرکاری سکولوں کی مدد کر رہی ہے،اس کے علاوہ فاؤنڈیشن نے آزاد جموں کشمیر میں 10 سرکاری سکولوں کو ٹیلی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے، جو انفارمیشن ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر، ای لرننگ پلیٹ فارمز، اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کررہے ہیں مذکورہ سکول ہنر مندی ، ماحولیات، قدرتی وسائل کے انتظام اور کمیونٹی کی ترقی پر مکالمے کے لیے کمیونٹی کےمراکز کاکردار بھی اداکررہے ہیں۔
